روحانیت کو قوی کرنے والے چند اہم اعمال
جناب رجب علی خیاط کے بتائے ہوے اعمال:
۱: رات کے ابتدائی حصے میں سورۃ الحشر کی تلاوت کریں
۲: صبح کے قریب سورۃ الصافات کی تلاوت کریں
جناب آیت اللہ جواد تبریزی کے مطابق چند اعمال:
اُنہوں نے چھ قرآنی آیات کا ذکر کیا جنہیں رات سونے سے پہلے پڑھیں
۱: سورہ کہف کے آیت نمبر:۱۱۰
قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا(110)
تم فرماؤ: میں ( ظاہراً) تمہاری طرح ایک بشر ہوں مجھے وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہےتو جو اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے ۔
۲: سورۃ بقرہ کی آیت نمبر:۲۸۵
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَؕ-كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ۫-لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ۫-وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا ﱪ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ(285)
رسول اس پر ایمان لایا جو اس کے رب کی طرف سے اس کی طرف نازل کیا گیا اور مسلمان بھی۔ سب اللہ پراور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر یہ کہتے ہوئے ایمان لائے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اورانہوں نے عرض کی: اے ہمارے رب!ہم نے سنا اور مانا، (ہم پر) تیری معافی ہو اور تیری ہی طرف پھرنا ہے۔
۳: سورۃ بقرہ آیت نمبر : ۲۸۶
لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْؕ-رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَاۚ-رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَاۚ-رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖۚ-وَ اعْفُ عَنَّاٙ-وَ اغْفِرْ لَنَاٙ-وَ ارْحَمْنَاٙ-اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ(286)
اللہ کسی جان پر اس کی طاقت کے برابر ہی بوجھ ڈالتا ہے ۔ کسی جان نے جو اچھاکمایا وہ اسی کیلئے ہے اور کسی جان نے جو برا کمایا اس کا وبال اسی پر ہے ۔اے ہمارے رب! اگر ہم بھولیں یا خطا کریں تو ہماری گرفت نہ فرما ،اے ہمارے رب! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر رکھا تھا، اے ہمارے رب!اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں طاقت نہیں اور ہمیں معاف فرمادے اور ہمیں بخش دے اور ہم پر مہربانی فرما، تو ہمارا مالک ہے پس کافر قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
۴: سورۃ المائدہ آیت نمبر :۱
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ۬ؕ-اُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِیْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ غَیْرَ مُحِـلِّی الصَّیْدِ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ مَا یُرِیْدُ(1)
اے ایمان والو! تمام عہد پورے کیا کرو۔ تمہارے لئے چوپائے جانور حلال کردیے گئے سوائے ان کے جو (آگے) تمہارے سامنے بیان کئے جائیں گے لیکن احرام کی حالت میں شکار حلال نہ سمجھو۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے۔
۵: سورۃ آل عمران آیت نمبر:۱۹
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ۫-وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ(19)
بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اورجنہیں کتاب دی گئی انہوں نے آپس میں اختلاف نہ کیا مگر اپنے پاس علم آجانے کے بعد،اپنے باہمی حسد کی وجہ سے۔ اور جواللہ کی آیتوں کاانکار کرے تو بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
۶: سورۃ ابراھیم آیت نمبر: ۲۷
یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ-وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ ﳜ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ(27)
اللہ ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ثابت رکھتا ہے اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
۷:تسبیح فاطمۃ الزھراء
۸:آیۃ الکرسی
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ﳛ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ-یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْۚ-وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَۚ-وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ-وَ لَا یَـٴُـوْدُهٗ حِفْظُهُمَاۚ-وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ(255)
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ خود زندہ ہے ، دوسروں کو قائم رکھنے والاہے، اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند ، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں سب اسی کا ہے ۔ کون ہے جو اس کے ہاں اس کی اجازت کے بغیرسفارش کرے؟ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور لوگ اس کے علم میں سے اتنا ہی حاصل کر سکتے ہیں جتنا وہ چاہے، اس کی کرسی آسمان اور زمین کو اپنی وسعت میں لئے ہوئے ہے اور ان کی حفاظت اسے تھکانہیں سکتی اور وہی بلند شان والا،عظمت والاہے۔
لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ ﳜ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّۚ-فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰىۗ-لَا انْفِصَامَ لَهَاؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(256)
دین میں کوئی زبردستی نہیں ،بیشک ہدایت کی راہ گمراہی سے خوب جدا ہوگئی ہے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے بڑا مضبوط سہارا تھام لیا جس سہارے کو کبھی کھلنا نہیں اوراللہ سننے والا، جاننے والاہے۔
اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاۙ-یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ۬ؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓـٴُـھُمُ الطَّاغُوْتُۙ- یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(257)
اللہ مسلمانوں کا والی ہے انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں ۔ یہی لوگ دوزخ والے ہیں ،یہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
۹:سورۃ اخلاص تین مرتبہ یا گیارہ مرتبہ.
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ(1)
کہہ دو : وہ اللہ ایک ہے۔
اَللّٰهُ الصَّمَدُ(2)
اللہ بے نیاز ہے۔
لَمْ یَلِدْ ﳔ وَ لَمْ یُوْلَدْ(3)
نہ اس نے کسی کو جنم دیا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔
وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ(4)
اور کوئی اس کے برابر نہیں ۔